نئی دہلی، 05 اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی ارکان میں سے ایک اور پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کہا ہے کہ میں جموں وکشمیرسے دفعہ 370 ختم کرنے کے حکومت کے فیصلے سے بہت خوش ہوں۔اڈوانی نے کہا ہے کہ جن سنگھ کے قیام کے وقت سے ہی جموں وکشمیر سے دفعہ 370 کو ختم کرنے کی ہماری مانگ رہی ہے۔وہ آج پوری ہوگئی۔حکومت کے اس فیصلے سے ملک کو مضبوطی ملے گی۔ملک کے سابق نائب وزیر اعظم اور سابق وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی نے حکومت کے اس تاریخی فیصلے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی اور ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کو مبارک باد دی۔ساتھ ہی کہا کہ اس سے جموں و کشمیر اور لداخ کی ترقی کو تقویت ملے گی۔بھارتیہ جن سنگھ کے وقت سے ہی جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کیا جانا پارٹی کا ایجنڈا رہاہے۔جب بھارتیہ جنتا پارٹی قائم ہوئی تو اس میں بھی جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کا اختتام ایک اہم مسئلہ تھا۔بی جے پی کے سینئر لیڈر اپنی تقریروں میں بھی دفعہ 370 کے ختم ہونے کا وعدہ دوہراتے رہے ہیں۔حال ہی میں ختم ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں اس وقت بی جے پی صدر جموں و کشمیر میں اپنے انتخابی تقریر میں کہا تھا کہ حکومت بننے کے 100 دنوں کے اندر کشمیر سے دفعہ 370 ختم کر دیں گے۔ریاست سے دفعہ 370 ختم ہوتے ہی جموں و کشمیر اب مرکز کے زیرِ انتظام ریاست بن گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لداخ کو ریاست سے الگ کرکے مرکز کے زیر انتظام ریاست بنائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پورے ملک میں اب ایک پرچم، ایک آئین اور ایک نشان ہوگا۔ریاست میں پہلے ووٹ کا حق صرف جموں و کشمیر کے مستقل شہریوں کو تھا۔ملک کی دیگرریاستوں کے شہری کو وہاں کے ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کرانے کا حق نہیں تھا۔لیکن اب ملک کی دوسری ریاستوں کے شہری بھی وہاں کی ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کرا سکتے ہیں اور ووٹ کر سکتے ہیں۔دفعہ 370 ختم کئے جانے کے ساتھ ہی ووٹ کا حق صرف جموں و کشمیر کے مستقل شہریوں والا قانون ختم ہو گیا ہے۔پہلے جموں و کشمیر کے اسمبلی کی مدت چھ سال کی ہوتی تھی جبکہ ملک کے کسی بھی ریاست میں کسی بھی ریاستی حکومت کی مدت 5 سال سے زیادہ کا نہیں ہوتی ہے۔ اب ملک کے کسی بھی ریاست کی طرح جموں و کشمیر میں بھی اب اسمبلی کی مدت 5 سال کی ہوگی۔اسمبلی کے 6 سال کی مدت دفعہ 370 کے ختم ہوتے ہی ختم ہو جائے گی۔ ریاست سے دوہری شہریت بھی ختم ہو جائے گی۔پہلے پاکستان سے آنے والے لوگوں کو جموں و کشمیر میں ہندوستان کی شہریت مل جایا کرتی تھی جو کہ اب ممکن نہیں ہوگا۔